ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کمٹہ میں سڑک کی تعمیر میں محکمہ جنگلات کے افسران کی رکاوٹ۔ مقامی باشندوں کا احتجاج

کمٹہ میں سڑک کی تعمیر میں محکمہ جنگلات کے افسران کی رکاوٹ۔ مقامی باشندوں کا احتجاج

Wed, 18 Jul 2018 12:48:49    S.O. News Service

کمٹہ 18؍جولائی (ایس او نیوز) کمٹہ تعلقہ کے سنتے گولی گرام پنچایت کے بیلل گدّے علاقے میں بدحال سڑک کی ازسرنو تعمیر کے دوران محکمہ جنگلات کے افسران نے رکاوٹ پید ا کردی تو مقامی افراد اس کے خلاف احتجاج پر اتر آئے۔

بتایا گیا ہے کہ بیلل گدے کی یہ سڑک کافی پرانی ہے اور بہت زیادہ خستگی اور بد حالی کا شکار ہوگئی تھی۔اس سے مقامی افراد کی آمد و رفت میں سخت دشواریاں پیدا ہو رہی تھیں۔عوام اس سڑک کو ازسرنو تعمیر کرنے اسے آمد ورفت کے قابل بنانے کے لئے پنچایت سے مسلسل مطالبہ کر رہے تھے۔مقامی عوام کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے انہیں سہولت فراہم کرنے کے لئے 2لاکھ روپے کے خرچ سے اس سڑک کو درست کرنے اور گندے پانی کی نکاسی کے لئے نالہ تعمیر کرنے کامنصوبہ بنایا۔ 700میٹر لمبی اس سڑک کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور79ہزار روپے خرچ ہوچکے ہیں۔مگر اسی بیچ ایک مقامی شخص نے محکمہ جنگلات کے پاس شکایت درج کروائی کہ غیر قانونی طور پر قبضہ کی ہوئی یعنی اتی کرمن جگہ پر سڑک تعمیر کی جارہی ہے۔

اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ رینچ فاریسٹ آفیسر راجیش کوچریکر نے اپنے عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ کراچانک تعمیراتی کام روکنے کا حکم دیا۔ اس موڑ پر مقامی افراد وہاں جمع ہوگئے اور محکمہ جنگلات کے افسران کے ساتھ بحث وتکرار کرنے لگے کہ اس علاقے میں ہر کوئی اتی کرمن جگہ پر ہی گھر بسائے ہوئے ہے۔ یہاں کسی کو بھی پٹّے والی زمین نہیں ملی ہے۔ کسی ایک شخص کی شکایت پر پورے علاقے کے عوام کی سہولت کے لئے بننے والی سڑک کو روکنا بالکل غلط ہے۔

سنتے گولی گرام پنچایت صدر مہیش نائک نے بتایا کہ گزشتہ گرام سبھامیں عوامی مطالبے کے تحت سڑک کی تعمیر نو کا یہ منصوبہ منظور کیا گیا تھا۔شکایت کنندہ نے خود جنگلاتی زمین اتی کرمن کررکھی ہے اوراب عوامی سہولت کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنا درست نہیں ہے۔ اس ضمن میں محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران سے بات چیت کرنے کے بعد بارش کا موسم تھم جانے پر تعمیری کام دوبارہ شروع کرنے کا یقین دلایا۔رینچ فاریسٹ آفیسر وردا رنگناتھ نے بتایا کہ سڑک کی تعمیر روکے جانے کے سلسلے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ اس ضمن میں تفتیش کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی۔


Share: